محمد علی - باکسر Muhammad Ali -Boxer

Muhammad Ali (Boxer) .(محمد علی (مکے باز)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
محمد علی
Muhammad Ali

محمد علی، 1967
شماریات
دیگر نامThe Greatest
The People's Champion
The Louisville Lip
Rated atہیوی ویٹ
قامت6 فٹ 3 انچ (191 cمیٹر)[1]
Reach78 انچ (198 cمیٹر)
شہریتامریکی
پیدائش17 جنوری 1942لوئیزویل، کینٹکی، ریاستہائے متحدہ
وفاتجون 3، 2016 (عمر  74 سال)سکاٹسڈیل، ایریزونا، ریاستہائے متحدہ
اندازآرتھوڈوکس
مکے بازی سجل
کل مقابلے61
فتوحات56
ناک آؤٹ فتوحات37
شکست5
محمد علی (پیدائشی نام: کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر (پیدائش: 17 جنوری، 1942ء - وفات : 3 جون 2016ءامریکہ کے ایک سابق مکے باز تھے، جو 20 ویں صدی کے عظیم ترین کھلاڑی قرار پائے۔ انہوں نے تین مرتبہ مکے بازی کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز "ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن شپ" جیتا اور اولمپک میں سونے کے تمغے  کے علاوہ شمالی امریکی باکسنگ فیڈریشن کی چیمپیئن بھی جیتی۔ وہ تین مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن شپ جیتنے والے پہلے مکے باز تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ امریکی ریاست کنٹکی کے شہر لوئسویل میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کیسیئس مارسیلس کلے سینئر کے نام پر کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر کہلائے۔
کیسیئس کلے نے 12 سال کی عمر سے ہی ایک مقامی جمنازیم میں باکسنگ کرنی شروع کر دی۔
6 فٹ تین انچ (1.91 میٹر) قد کے حامل محمد علی مکے بازوں کے عام انداز (ہاتھ چہرے پر رکھ کر اس کا دفاع کرنا) کے برخلاف ایک منفرد انداز کے حامل تھے۔ انہوں نے 29 اکتوبر 1960ء کو آبائی قصبے لوئسویل میں پہلا مقابلہ جیتا۔ 1960ء سے 1963ء تک نوجوان کیسیئس نے 199 مقابلے جیتے اور ایک میں بھی شکست نہیں کھائی۔ ان مقابلوں میں سے 155 میں اس نے مدمقابل کو ناک آؤٹ کیا۔

شہرت کا آغاز[ترمیم]

باکسنگ میں ان کا کیریئر ایک شوقیہ کھلاڑی کی حیثیت سے کامیاب رہا لیکن ان کو عظمت اس وقت حاصل ہوئی جب 1960ء میں روم اولمپِک میں انہوں نے سونے کا  تمغا جیتا۔
لیکن تمغا جیتنے کے بعد جب محمد علی اپنے شہر واپس آئے تو وہ نسلی امتیاز کا شکار ہوگئے۔ ایک ریستوران میں انہیں اس لئے نوکری نہ مل سکی کیونکہ وہ سیاہ فام تھے اور اس واقعے کے نتیجے میں انہوں نے اپنا سونے کا تمغا دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔
لیکن ان واقعات کے باوجود ان کی کامیابیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ اکھاڑے میں کیسیئس کلے کا کردار غیر معمولی رہا۔ وہ اپنے مخالفین کو کھلا چیلینج دیتے رہے، باکسنگ کے مقابلے جیتتے رہے، اور عوام نے ان کو عقیدت کی نظروں سے دیکھنا شروع کردیا۔

عالمی اعزاز[ترمیم]

علی اور لسٹن کے مقابلے کے کا ایک منظر، لسٹن زمین بوس ہیں
فروری 1964ء میں کیسیئس کلے نے باکسنگ میں اس وقت کے عالمی چیمپیئن سونی لسٹن کو کھلا چیلنج کیا اور انہیں ایک مقابلے کے چھٹے راؤنڈ میں شکست دی۔ اس کے بعد انہوں نے مسلسل  سات مقابلوں میں اس وقت کے مایہ ناز مکے بازوں کو زیر کیا۔
اس فتح کے بعد انہوں نے نیشن آف اسلام میں شمولیت اختیار کرلی اور اپنا نام محمد علی رکھ لیا۔ محمد علی کا کہنا تھا کہ کیسیئس کلے ایک غلامانہ نام تھا۔

جنگ ویت نام اور سزا[ترمیم]

جنگ ویت نام کے دوران محمد علی نے امریکی فوج میں شامل ہونے کے عہد نامے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں انہیں ان کے اعزاز سے محروم کردیا گیا اور 5 سال کی سزا  سنائی گئی۔ بعد میں سپریم کورٹ نے عوامی احتجاج کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سزا سے مستثنٰی قرار دیا۔
بعد ازاں جب محمد علی پھر سے میدان میں اترے تو ان کی باکسنگ میں وہ کشش نہیں تھی اور جو فریزیئر نے انہیں شکست دیدی لیکن دو سال کے بعد انہوں نے بدلہ چکا لیا۔
جو فریزیئر اور محمد علی کا یہ مقابلہ مکے بازی کی تاریخ کے عظیم ترین مقابلوں میں شمار ہوتا ہے اور "Fight of the Century" یعنی صدی کی بہترین لڑائی کے نام سے مشہور ہے۔

عالمی اعزاز کا دوبارہ حصول[ترمیم]

Foreman.jpg
پھر اکتوبر 1974ء میں انہوں نے جارج فورمین کو شکست دیکر ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا وقار اور شہرت حاصل کرلی۔ اس وقت محمد علی کی عمر صرف 32 سال تھی اور وہ اس اعزاز کو پھر سے جیتنے والے دوسرے  شخص تھے۔
1975ء میں محمد علی نے نیشن آف اسلام چھوڑ کر باقاعدہ اسلام قبول کرلیا۔
اسی سال منیلا، فلپائن میں پھر سے محمد علی کا مقابلہ جو فریزیئر سے ہوا جن کا کہنا تھا کہ انہیں محمد علی سے نفرت ہونے لگی ہے۔ 14 راؤنڈ کے بعد محمد علی نے فتح حاصل کی اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔
لیکن فروری 1978ء میں علی کو ایک زبردست دھچکا لگا جب وہ لیون اسپِنکس نامی اس شخص سے ہار گئے جو ان سے 12 سال کم عمر تھا۔ 8 ماہ بعد ایک مقابلے میں ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا اور کروڑوں لوگوں نے اس مقابلے کو دیکھا۔ اس بار محمد علی نے اسپِنکس کو شکست دی اور تاریخ میں پہلی بار کسی کھلاڑی نے تیسری بار عالمی اعزاز جیتا۔ اس وقت ان کی عمر 366 سال تھی۔

ریٹائرمنٹ اور بیماری[ترمیم]

40 سال کی عمر میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 1980ء ان کی صحت کے بارے میں خدشات نے جنم لینا شروع کردیا اور ڈاکٹروں نے انہیں "پارکنسنس سنڈروم" (رعشہ) کا شکار پایا۔
1996ء کے اولمپک کھیلوں میں استعمال ہونے والی وہ مشعل جس کے ذریعے محمد علی نے کھیلوں کا افتتاح کیا
جب انہوں نے 1996ء کے اٹلانٹا اولمپکس کی مشعل اٹھائی تو دنیا بھر کی توجہ ان کی صحت پر تھی۔ اس وقت انہیں ایک سونے کا تمغا بھی دیا گیا جو اس تمغے کے بدلے میں تھا جو انہوں نے  دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔
آج بھی دنیا محمد علی کو ایک عظیم شخص کی حیثیت سے جانتی ہے۔ برطانیہ میں بی بی سی ٹیلیویژن دیکھنے والوں نے انہیں اس صدی کا سب سے عظیم کھلاڑی قرار دیا اور یہی اعزاز انہیں کے امریکی رسالے Sports Illustratedd نے بھی دیا۔
آبائی قصبے میں قائم محمد علی سینٹر
محمد علی گذشتہ کئی سالوں سے رعشے کے مرض میں مبتلا رہے تاہم انہوں نے فلاحی کاموں کو نہیں چھوڑا اور اپنے آبائی قصبے لوئسویل میں 6 منزلہ محمد علی سینٹر قائم کیا۔
ایک مشہور شخصیت، ایک باغی، ایک کامل مسلمان، حقوق انسانی کے علمبردار اور ایک شاعر، جس نظر سے بھی دیکھا جائے محمد علی نے ہمیشہ کھیل، نسل پرستی اور قومیت کو شکست دی اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب محمد علی کرہ ارض پر بلا شبہ سب سے زیادہ شہرت یافتہ شخص بن گئے۔
باکسنگ میں محمد علی کی زندگی 20 سال رہی جس کے دوران انہوں نے 56 مقابلے جیتے اور 37 ناک آؤٹ اسکور کیا لیکن دنیا ہمیشہ انہیں ایک عظیم شخص کے نام سے جانتی رہے گی۔ مسلمان اور سیاہ فام آج بھی محمد علی کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔

وفات[ترمیم]

محمد علی کو سانس کی تکلیف کے باعث 2 جون، 2016ء کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ ابتدائی طور پر ان کی حالت کو تسلی بخش کرار دیا گیا۔ [2] تاہم اگلے دن علی کی حالت بگڑ گئی۔ [3][4] اس کے بعد ان کی حالت بہتر نہیں ہوئی اور 3 جون کو 74 سال کی عمر میں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ [5][6][7]

مذہبی وابستگیاں[ترمیم]

محمد علی 1960ء کے دہے میں مسیحیت ترک کرکے نیشن آف اسلام قبول کیے تھے۔ تاہم 1975ء میں وہ سنی اسلام اختیار کیے تھے۔ [8]

خاندان[ترمیم]

محمد علی نے زندگی میں چار مرتبہ شادی کی تھی۔ اس کی وجہ سے ان کی 7 بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ بیٹیوں میں حنا، لیلی، مریم، رشیدہ، جمیلہ، میا، خالیہ ہیں۔ جبکہ دو صاحبزادے اسعد اور محمد جونیئر ہیں۔

محبت رسول اور دنیا میں ایک منفرد اعزاز[ترمیم]

ہالی وڈ، کیلیفورنیا میں ایک عمارت کوڈیک تھیئٹر اینٹرٹینمنٹ کامپلکس جس کی شہرت ہالی وڈ واک آف فیم (Hollywood Walk of Fame) کے طور پر ہے۔ یہاں پر 2,500 مشاہیر کے نام ستاروں کی شکل کے اعزاز کے ساتھ زمین پر درج ہیں۔  جگہ کے منتظمین محمد علی ہی کی زندگی میں ان کا نام زمین پر نقش کرنا چاہتے تھے۔ تاہم محمد علی نے واضح الفاظ میں یہ بیان دیاکہ میں نہیں چاہوں گا کہ میرے نام کے اوپر سے وہ لوگ چلیں جو میری عزت نہیں کرتے۔ اس نے مزید کہا:
میں میرے پیغمبر کا نام رکھتا ہوں اور میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ کسی کو اس پر قدم رکھ کر چلنے کی اجازت دوں۔
اس بیان کے پیش نظر ہالی وڈ واک آف فیم کی انتظامی کمیٹی نے 2002ء میں محمد علی کا نام دیوار پر نقش کیا۔ یہ اس عمارت کا واحد نام ہے جو دیوار پر ہے نہ کہ زمین پر۔ [11]
اس بارے میں ایک گلوکارہ کرسٹل جانسن نے تبصرہ کیا:
محمد علی وہ واحد شخص ہیں جن کا ہالی وڈ واک آف فیم کا ستارہ دیوار پر آویزاں ہے، نہ کہ اس طرح کہ کوئی اس پر قدم رکھ سکے۔[12]

Comments

Post a Comment