دین محمد شیخ Deen Mohammad Shaikh'

.


Deen Mohammad Shaikh
From Wikipedia, the free encyclopedia
Deen Mohammad Shaikh (Urdu: دين محمد شيخ‎‎) is a Muslim missionary from Matli town of Badin District in the Sindh province of Pakistan.

Deen Mohammad Shaikh was born in 1942 in a Hindu family and converted to Islam in 1989.[1] After his conversion to Islam, he became a Muslim missionary to Hindus of Sindh province.[2] Deen Mohammad Shaikh's mission has converted over 110,000 Hindus to Islam.[3] Deen Mohammad Shaikh is the President of the local mosque Jamia Masjid Allah Wali and Madrassa Aisha Taleem-ul Quran, an institute for conversions to Islam.[4] Deen alleges that he was kidnapped along with his daughter-in-law by influential local Hindu leaders who threatened him so that he would stop converting people.[5] Many of the new converted Muslims have moved from Matli and settled Hub Chowki near Karachi due to the hostility of their relatives and friends.


Deen was interested in Islam since he was 15 years old. Deen's mother was concerned about his fascination with Islam so she decided to marry him off to divert his attention. Deen converted to Islam in 1989 along with his family. The success of his missionary zeal had strong reaction in the local Hindu community.

دین محمد شیخ کا تعلق مسلم تبلیغی اسلام ماتلی ضلع بدین کے شہر پاکستان کے صوبہ سندھ  سے ہے ۔

 دین محمد شیخ 1942 میں ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوۓ اور 1989ء میں اسلام قبول کیا۔
اس کے بعد اپنے مذہب اسلام کی تبلیغ صوبہ سندھ کے ہندوؤں کے لیےان کا مشن بن گیا ۔  دین محمد شیخ کےاس مشن کے تحت 110000  ہندووں نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ دین محمد شیخ نے مقامی مسجد جامعہ مسجد اللہ ولی کے صدر اور مدرسہ عائشہ تعلیم القرآن قرآن، ایک انسٹی ٹیوٹ مذہب اسلام کے لئے سب سے بڑا ادارہ ہے ۔  دین محمد کو اپنی بہو کے ساتھ بااثر مقامی ہندو رہنماؤں کی طرف سے اغوا کیا گیا جنہوں نے انہیں دھمکی دی کہ وہ لوگوں کے دین کو تبدیل نہ کریں ۔ ۔ ان میں سے بہت سے نئےمذھب تبدیل کرنے والے مسلمان  اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے دشمنی کی وجہ سے ماتلی سے ہجرت کر کے کراچی کے قریب حب چوکی میں آباد ہوگئے


دین محمد شیخ نے 15 سال کی عمر میں دین اسلام میں دلچسپی لینا شروع کی تھی ۔ دین محمد کی ماں کو ان کے اسلام لانے کی وجہ سے جان کو خطرہ محسوس کرتے ھوۓ ان کی شادی کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی توجہ دین اسلام سے   ھٹ جاۓ۔ وہ 1989 میں اپنے خاندان سمیت دین اسلام میں داخل ھو گئے۔ ان کی تبلیغ اسلام کی کامیابی نے مقامی ھندو آبادی میں ھیجان برپا کر دیا۔

Comments

Post a Comment